آیت اللہ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - خدائے تعالٰی کے وجود کی نشانی یا دلیل۔  ہے جہاں صنعت صانع پہ دلیل آیۃ اللہ ہے یہ بے تاویل      ( مثنوی امید و بیم، ١٨٩٦ء، ٣٠ ) ٢ - فقہ و تفسیر و دیگر علوم دینیہ کے بڑے عالموں کے لیے خطا ہی کلمہ۔ "کل آیۃ اللہ خمینی نے پریس سے یہ اعلان کیا ہے۔"      ( روزنامہ، امن، کراچی، ٩ نومبر، ١٩٧٨ء )

اشتقاق

عربی زبان میں اسم 'آیت' کے ساتھ عربی زبان سے اسم معرفہ 'اللہ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٧ء میں "نہرالمصائب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - فقہ و تفسیر و دیگر علوم دینیہ کے بڑے عالموں کے لیے خطا ہی کلمہ۔ "کل آیۃ اللہ خمینی نے پریس سے یہ اعلان کیا ہے۔"      ( روزنامہ، امن، کراچی، ٩ نومبر، ١٩٧٨ء )